Story of Hinda at the time of conquest of Holy Makka

ہندہ کا حضرت محمد ﷺ سے معافی مانگنے کا واقعہ

Story of Hinda at the time of conquest of Holy Makka

ابن جریر کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر عورتیں حضرت محمد ﷺ کے پاس بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ عورتوں سے کہیں کہ رسول اللہ ﷺ تم سے اس بات پر بیعت لیتے ہیں کہ تم اللہ رب العزت کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ ان بیعت کرنے والی عورتوں میں حضرت ہندہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی اور حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کی بیوی تھیں۔ یہی تھیں جنہوں نے اپنے کفر کے زمانے میں آپ ﷺ کے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ کا پیٹ چیر دیا تھا۔ اس وجہ سے یہ ان عورتوں میں اس حالت میں آئی تھی کہ اسے کوئی پہچان نہ سکے۔ اس نے جب فرمان سنا تو کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں لیکن اگر بولوں گی تو حضور ﷺ مجھے پہچان لیں گے اور اگر پہچان لیں گے تو میرے قتل کا حکم دے دیں گے میں اسی وجہ سے اس طرح آئی ہوں کہ پہچانی نہ جاؤں مگر وہ سب عورتیں خاموش رہی اور ہندہ کی بات اپنی زبان سے کہنے سے انکار کر دیا۔ آخر ان کو خود ہی کہنا پڑا کہ یہ ٹھیک ہے۔ جب شرک سے ممانعت مردوں کو ہے تو عورتوں کو کیوں نہ ہوگی؟ حضور ﷺ نے اس کی طرف دیکھا مگر کچھ نہ فرمایا پھر حضرت عمر سے فرمایا کہ ان سے دوسری بات یہ کہہ دو کہ چوری نہ کریں۔ اس پر ہندہ نے کہا کہ میں ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی معمولی سی چیز کبھی کبھی لے لیا کرتی ہوں کیا خبر یہ بھی چوری میں داخل ہے یا نہیں؟ اور میرے لئے یہ حلال بھی ہے یا نہیں؟ حضرت ابو سفیان بھی اسی مجلس میں موجود تھے اور سنتے ہیں کہنے لگے میں میرے گھر میں سے جو کچھ بھی تو نے لے لیا ہو خواہ وہ خرچ میں آگیا ہو یا باقی ہو سب تجھ پر حلال کرتا ہوں۔ اب تو حضرت محمد ﷺ نے صاف پہچان لیا کہ یہ آپ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قاتلہ ہے اور ان کے کلیجے کو چیرنے والی اور پھر چبانے والی ہندہ ہے۔ آپ ﷺ نے انہیں پہچان کر اور ان کی یہ گفتگو سن کر اور ان کی یہ حالت دیکھ کر مسکرا دیے اور اپنے پاس بلا لیا۔ انہوں نے آپ ﷺ کا ہاتھ تھام کر معافی مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا تم ہی ہندہ ہو؟ ہندہ نے کہا جی ہاں تو آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ آج میں نے تمہیں معاف کیا۔

حوالہ: ابن کثیر جلد 5
صحیح اسلامی واقعات صفحہ نمبر 58-60