Hazrat Khizar and a Poor Beggar-Urdu Story

Hazrat Khizar A.S

فقیر اور حضرت خضر علیہ السلام کا قصہ

 

Read in English

 

Hazrat Khizar and Beggar

 

Hazrat  Khizar and  Beggar

حافظ ابو نعیم اصبہانی اس طریق سے حضرت ابو امامہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو فرمایا: کیا میں تم کو خضر کے متعلق نہ بتاؤں؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں رسولِ خدا۔ تو آپ ﷺ گویا ہوئے۔

خضر علیہ السلام ایک دن بنی اسرائیل کے بازار میں چلے جا رہے تھے کہ ایک مکاتب شخص نے آپ کو دیکھا اس نے صدائے بھیک لگائی.

مجھ پر کچھ صدقہ کرو اللہ آپ کو برکت دے۔ حضرت خصر علیہ السلام نے فرمایا میں اللہ پر ایمان لایا جو اللہ چاہے گا وہ ہو کر رہے گا۔ میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں جو تجھے دے سکوں تو فقیر نے پھر صدا لائی: میں تجھ سے اللہ کی ذات کے طفیل سوال کرتا ہوں- کیوں کہ جب آپ نے مجھ پر صدقہ نہیں کیا تو میں نے آسمان کی طرف نظر کی تو میں نے آپ کے پاس برکت پہچان لی .

خضر علیہ السلام نے فرمایا میں اللہ پر ایمان لایا میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو تجھ کو دوں مگر تو مجھے لے لے اور فروخت کر دے۔ مسکین نے کہا کیا یہ بات درست ہے؟ فرمایا بالکل میں تجھ کو حق ہی کہتا ہوں کیونکہ تو نے عظیم ذات کے طفیل مجھ سے سوال کیا ہے .بس میں ہرگز اپنے رب کی ذات کے نام کی لاج کو نہ چھوڑوں گا مجھے فروخت کر ڈال۔

Hazrat  Khizar and  Beggar

حضور ﷺ نے فرمایا: کہ مسکین نے پھر ان کو بازار لے جا کر چار سو درہم میں فروخت کر دیا۔ اور آپ خریدار کے پاس ایک زمانہ یونہی بغیر کسی کام کاج کے رہے تو پھر اپنے مالک سے کہا آپ نے مجھے کسی بھلائی کے کام کے لئے ہی خریدا ہو گاتو مجھے کسی کام کا حکم کیجئے۔ مالک نے کہا مجھے ناگوار لگتا ہے کہ آپ پر بوجھ ڈالوں کیوں کہ آپ سن رسیدہ شیخ اور بزرگ ہیں۔ فرمایا مجھ پر بار نہ ہوگا تو مالک نے کہا پھر یہ پتھر منتقل کرو۔ حالانکہ وہ پتھر ایک دن میں چھ آدمیوں کے بغیر منتقل نہ کیا جا سکتا تھا (پتھر کیا تھا پوری چٹان تھی) .

پھر مالک اپنی کسی ضرورت کے لئے باہر نکلا اور واپس آیا تو دیکھا کہ پتھر اپنے ہی وقت پر منتقل ہو چکا تھا۔ مالک نے کہا آپ نے بہت اچھا کیا اور خوب کیا اور ایسی طاقت دکھائی جس کی مجھے امید نہ تھی۔ پھر مالک کو سفر درپیش ہوا تو خضر نے فرمایا مجھے کوئی کام سونپتے جاؤ مالک نے پھر کہا مجھے ناگوار لگتا ہے کہ میں آپ پر مشقت ڈالوں .آپ نے فرمایا مجھ پر کوئی مشقت نہ ہو گی۔ مالک نے کہاتو پھر میرے گھر کی تعمیر کے لئے اینٹیں بناؤ۔

 آدمی سفر پر چلا گیا .آکر دیکھا تو عمارت تعمیر شدہ پائی تو مالک (مارے تعجب کے) گویا ہوا میں اللہ کے نام سے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ کا کیا راستہ ہے؟ اور آپ کی کیا حقیقت ہے۔

فرمایا آپ نے مجھے سے اللہ کے نام سے سوال کیا ہے. اور اللہ کے نام پر سوال ہی نے مجھے غلامی میں ڈالا ہے اور میں تجھ کو بتلاتا ہوں کہ میں کون ہوں؟ میں وہی خضر ہوں جس کے متعلق تو نے سنا ہو گامجھ سے ایک مسکین نے سوال کیا تھا .لیکن میرے پاس کچھ نہ تھا جو میں اسے دیتا پھر اس نے اللہ کے نام سے سوال کیا تو میں نے اپنی جان پر اس کو قدرت دے دی کہ مجھے فروخت کردے .تو اس نے مجھے فروخت کر ڈالا.

اور میں تجھے بتاتا ہوں کہ جس شخص سے اللہ کے نام سے سوال کیا گیا پھر بھی سائل کو مسترد کر دیا گیا جبکہ وہ کچھ دینے پر قادر تھا تو قیامت کے روز وہ ایسے کھڑا ہو گا کہ اس کے جسم پر کوئی گوشت نہ ہوگا اور نہ کوئی اس کی ہڈی حرکت کر سکے گی۔

تو مالک نے کہا میں اللہ پر ایمان لایا اے خدا کے پیغمبر میں نے آپ کو مشقت میں ڈال دیا اور مجھے کوئی علم نہ تھا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا کوئی حرج نہیں آپ نے اچھا کیا اور ثواب کمایا۔ تو مالک نے فرمایا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے پیغمبر میرے گھر اور مال کے متعلق آپ جو اللہ کی مرضی سے حکم فرمائیں آپ کو اختیا ر ہے یا میں آپ کو اختیار دیتا ہوں اور آپ کا راستہ چھوڑتا ہوں۔

تو آپ نے فرمایا مجھے یہ بات پسندیدہ ہے کہ آپ میرا راستہ چھوڑ دیں۔ تاکہ میں اپنے رب کی عبادت کروں تو اس نے آپ کا راستہ صاف کر دیا تو خضر علیہ السلام نے فرمایا۔

تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے غلامی میں ڈالا اور پھر اسی نے مجھے اس سے نجات دی .

اس حدیث کے مرفوع بیان کرنے میں خطا ہے مناسب یہ ہے کہ یہ موقوف ہے اور اس کے راوی ایسے اشخاص ہیں جن کو پہچانا نہیں جاتا واللہ اعلم۔

Hazrat  Khizar  and  Beggar-Urdu Story is  also  available  on this  website in  English

Read in English