Martyrdom of Hazrat Hanzla (Ghaseel-al-Malaika)

battle of Uhud

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ

غسیل الملائکہ

Martyrdom of Hazrat Hanzla (Ghaseel-al-Malaika) in Ghazwa Uhad

Read in English

حضرت حنظلہ ابو عامر فاسق کے بیٹے تھے اور آ پ مسلمان ہو چکے تھے. جب حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شادی ہوئی تو پہلی رات ہی جہاد کا اعلان ہو گیا۔ آپ حالت جنابت میں تھے اور اتنی بھی تاخیر نہ کی کہ غسل کر لیتے۔ آ پ حالت جنابت میں ہی جہاد کے لئے چل پڑے۔

احد کا میدان تھا اور مسلمانوں اور کفار کے درمیان دوسرا معرکہ تھا۔ جب مشرکین مکہ کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ بھاگنے لگے تو آپ کی نظر کفار کے سپہ سالار ابو سفیان جو کہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے ان پر پڑی۔ آپ بجلی کی سی تیزی سے کفار کی صفوں کے چیرتے ہوئے ابوسفیان کی طرف لپکے اور اپنی تلوار کا وار کیا جو ابوسفیان کے گھوڑے کو لگا اورگھوڑا ابوسفیان سمیت گر پڑا۔ وہ  مدد کے لئے چلایا تو ایک کافر اسود بن شداد اس کی مدد کے لئے بھاگا۔اس کافر نے  اپنے نیزے سے حضرت حنظلہ پر حملہ کر دیا آپ بری طرح زخمی ہوئے اور اس نے دوسرا وار کیا جس نے آپ کو جام شہادت نوش کروا یا۔

حضور وﷺ کے سامنے جب آپ کی شہادت کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ زمین و آسمان کے درمیان بارش کے تازہ پانی سے فرشتے آپکو چاندی کے تھالوں میں غسل دے رہے ہیں۔ حضرت ابو سید الساعدی فرماتے ہیں کہ جب ہم ان کے پاس گئے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔یہی وجہ تھی کہ ان کو غسیل الملائکہ کے نام سے جانا جا تا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے اہل خانہ سے اس کے بارے میں دریافت کرو۔ لوگوں نے جب اس شہید کی بیوہ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جس روز ان کی شادی ہوئی تھی اسی روز جہاد کا اعلان ہو گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جہاد کا اعلان سنتے ہی آپ نکل کھڑ ے ہوئے اور اتنی تاخیر بھی نہ کی کہ غسل جنابت فرما لیتے۔ آپ کی زوجہ کا نام جمیلہ تھا۔

جب حضرت حنظلہ جہاد کے لئے روانہ ہو گئے تو اس نے اپنے خاندان کے چار آدمیوں کو بلایا اور ان سے کہا گواہ رہنا کہ حنظلہ نے آج رات ان سے صحبت کی تھی تاکہ بعد میں کوئی افسانہ نہ گھڑ لیا جائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو کہنے لگی کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان کھل گیا اور حنظلہ اس میں داخل ہو گئے ہیں اور دروازہ بند ہو گیا تو میں سمجھ گئی کہ آپ اس غزوہ میں ضرور شہید ہو جائیں گے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے انہیں فرزند عطا کیا جس کا نام عبداللہ رکھا گیا۔

Ref: Ibne Kaseer Jild 5

Sahi Islami Waqiat: Page No.58-60