2000 Years History of Jews-Urdu

2000 Years History of Jews

English Version

یہود کی دو ہزار سال کی تاریخ

 جب حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر ۳۳ برس تھی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ لیکن یہودیوں نے اپنے خیال کے مطابق آپ کو سولی پر چڑھوا دیا تھا۔ اگرچہ اس کے بعد یہ اختلاف ہے کہ یہودی کہتے ہیں کہ آپ سولی پر چڑھ گئے اور فوت ہو گئے ہیں مگر عیسائی کہتے ہیں کہ ان کا اتنقال صلیب پر ہوا تھا اور پھر ان کی لاش کو ایک غار میں رکھ دیا گیا تھا جہاں پر زندہ ہونے کے بعد آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے۔ عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک بات مشترک ہے کہ آپ کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا گیا مگر فرق یہ ہے کہ عیسائی کہتے ہیں کہ سولی دئے گئے پھر زندہ ہوئے پھر آسمان پر اٹھائے گئے اور مسلمانوں کے مطابق وہ نہ صلیب دے سکے انہیں اور نہ قتل کرسکے بلکہ اللہ نے اٹھا لیا۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ وہ دوبارہ آئیں گے۔

یہودیوں کی رومیوں کے خلاف بغاوت اور ان کا قتل عام

اس فعل پر یہودی عذاب اکبر کے مستحق ہو چکے تھے مگر اللہ نے ان پر مدت دراز کی اور ان پر دنیوی عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ حضرت عیسیٰ کے رفع سماوی کے بعد سنہ 70 میں یہودیوں نے رومیوں کے خلاف بغاوت کی۔ رومی جنرل ٹائٹس نے حملہ کر کے یروشلم میں ایک دن میں ایک لاکھ تینتیس ہزار یہودیوں کو قتل کیا اور ہیکل سلیمانی کو گرا دیاجو آج تک گرا ہوا ہے۔ پھر یہودیوں کو حکم دیا گیا کہ تم اس سر زمین سے نکل جاو اوروہ دنیاکے مختلف خطوں میں جا کر آباد ہوئے۔ ان کے تین قبیلے بنو قینقاع، بنو نظیر اور بنو قریظہ مدینے میں جا بسے۔وہ اپنے اس دور کو ڈایا سپورا  یعنی کہ دور انتشار کہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی اصل سرزمین تو فلسطین ہے جو حضرت ابراھیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کا مسکن رہا ہے۔ سن70 سے 1917 تک ان کا یعنی دور انتشار جاری رہا۔

اس ڈایا سپورا (دور انتشار) کے تین حصے ہیں جن میں سے پہلا حصہ تین سو برس پر محیط ہے۔ اس دور میں رومی حکمران تھے جو عیسائیوں اور یہودیوں کے دشمن تھے۔ جبکہ عیسائی اور یہودی بھی ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ رومی سمجھتے تھے کہ عیسائی بھی یہودیوں کا ہی ایک فرقہ ہیں اس لئے وٍہ ان دونوں کو ستاتے تھے اور یہ دونوں بھی آپس میں لڑتے تھے۔

رومیوں کا عیسائیت مذہب اختیار کرنا

سن 300 عیسوی میں ایک معجزہ رونما ہوا بہت بڑا شہنشاہ قسطنطین اعظم رومن ایمپریس سے عیسائی ہو گیا جس کے بعد پوری سلطنت عیسائی ہو گئی۔ جس کے بعد یہودیوں پر زمین تنگ کر دی گئی اور ان کا شہروں میں داخلہ بند کر دیا گیا۔ کیونکہ عیسائی حضرت عیسٰی علیہہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے تھے اور یہودیوں نے ان کو صلیب چڑھا دیا تھا اس دشمنی کی بناء پر یہودیوں کا برا وقت شروع ہو چکا تھا۔ لہذا قرآن پاک ان دونوں کے بارے میں ارشاد ہے کہ “ہم نے ان کے مابین دشمنی پیدا کر دی ہے”

حضرت محمد ﷺ کے دور حیات میں یہود کا کردار

ڈایا سپورا (دور انتشار) کے پانچ سو برس بعد571 عیسوی میں حضرت محمدﷺ کی ولادت با سعادت ہوئی اور 610 عیسوی میں آ پ ﷺ پر وحی کا نزول ہوا۔ جب ابھی نبی ﷺ مکہ میں ہی تھے تو یہودیوں نے مدینہ سے ہی آپ کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔ وہ قریش مکہ کوسکھلاتے تھے کہ ان کو تنگ کرو اور مختلف قسم کے سوالات کرنے کو کہتے تھے جن کا قرآن میں ذکر ہے کہ آپ ﷺ سے ذولقرنین کے بارے میں سوال کریں، اصحاب کہف کے بارے میں پوچھیں اور روح سے متعلق سوال کریں۔
جب نبیﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے آتے ہی فہم و تدبر کا مظاہرہ کیا اور میثاق مدینہ کر لیا جس کو ماسٹر سٹروک کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ لیکن وہ اندر ہی اندر ریشہ دوانیوں میں مصروف رہے اورجو عہدکئے تھے ان سے پھرتے رہے کیونکہ ان وہ اندر سے مسلمانوں کے دشمن تھے۔

قرآن میں ہے سورہ النساء ترجمہ: اے نبی ہمیشہ آپ کے علم میں ان کی طرف سے خیانتیں و بددیانتیاں آتی رہیں گی۔

وہ قریش کو بار بار دعوت دیتے تھے کہ وہ مدینہ پر حملہ کریں تو وہ اندر سے بغاوت کر دیں گے۔ اور جب وہ آتے تو یہ باہر نہ نکلتے تھے کیونکہ یہ مرد میدان نہ تھے اور جنگ و جدل کے قابل نہ تھے۔

قرآن پاک کی سورہ مائدہ آیت نمبر ۴۶ ترجمہ: اکثر و بیشتر مواقع پر جب وہ آگ بھڑکاتے تھے تو اللہ اس کو بجھا دیتا تھا۔

لیکن اس کے باوجود جنگیں ہوئی ہیں۔ ان کی سازشوں کے نتیجے میں نبی ﷺ نے ان کو سزا دی اور غزوہ بدر کے فوراً بعد بنو قینقاع کو نکال باہر کیا، غزوہ احد کے بعد بنو نظیر اور غزوہ احزاب کے بعد بنو قریظہ کو نکال دیا۔

قرآن میں ہے ترجمہ: اہل ایمان کی دشمنی میں شدید ترین تم پاؤ گئے یہودیوں اور مشرکین کو۔

2000 Years History of Jews

حضرت محمد ﷺ کے بعدحضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت اور یہود

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بیت المقدس کا محاصرہ کیا گیا۔ فصیل بڑی اونچی تھی اور حملے کا راستہ نہ تھا۔محاصرہ طول پکڑ رہا تھا مگر یہود کے پاس رسد موجود ہے اور شہر بھی وسیع ہے۔ پھر اللہ نے خود تدبیر کی اور ان کے علماء فصیل پر آئے اور انہوں نے کہا کہ مسلمانوں اگر تم قیامت تک بھی محاصرہ کئے رکھو گے تو شہر فتح نہیں کر سکتے۔ ہاں ایک درویش بادشاہ کے ہاتھوں یہ شہر فتح ہونا ہے جو تمہارے اندرہمیں وہ نظر نہیں آرہا۔

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نےاپنے ساتھیوں سے  کہا کہ وہ درویش بادشاہ مدینہ میں بیٹھا ہوا ہے جس کا نام عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ ہے۔ لہذا آپ کو استدعا کی گئی کہ آپ تشریف لائیں تو شہر فتح ہو جائے گا۔ اس پر آپ نے تاریخی سفر کیا جو سات سو میل طویل تھا۔ اور ایک اونٹ اور ایک خادم کے ساتھ آپ نے سفر کیا تو ایک منزل پر آپ اونٹ پر سواری کرتے اور دوسری منزل پر خادم سواری کرتے۔ جب شہر کے قریب پہنچے تو خادم کی باری تھی سواری کی تو خادم نے عرض کی کہ یا امیر المومنین آپ سواری پر بیٹھ جاو لو گ کیا کہں گے کہ خادم سواری پر ہے اور آپ نکیل پکڑ کر چل رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ نہیں باری تمہاری ہے لہذا تم ہی سواری پر بیٹھو گے۔ اور کیچڑ میں آپ کے جوتے بھی خراب ہو گئے تو آپ نے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لئے۔ آپ کے کپڑے بھی پیوند لگے ہوئے تھے۔ حضرت ابو عبیدہ نے درخواست کی کہ یہ بڑا مہذب علاقہ ہے لہذا آپ اپنے کپڑے وغیرہ تبدیل کر لیں تو آپ نے فرمایا کہ نہیں ہم وہ قوم ہیں جس کو اللہ نے عزت دی ہے اسلام کی وجہ سے نہ کہ کپڑوں کی وجہ سے۔ جب یہودیوں نے فصیل پر کھڑے ہو کر آپ کو دیکھا اور اپنی کتابوں میں سے نشانیاں دیکھیں تو کہا کہ یہ ہی وہ شخص ہے جس نے شہر کو فتح کرنا ہے لہذا انہوں نے چابیاں پکڑا دیں اور یوں بغیر قتل و غارت کے شہر فتح ہو گیا۔ اس وقت اس وقت حضرت عمر نے ایک نرمی یہ کی کہ اس یہودیوں کو بھی اس میں داخلے کی اجازت دے دی جو آپ کا ان پر احسان عظیم ہے۔ اس سے پہلے وہ اس کے مجاز نہ تھے۔ اور معاہدے میں عیسائیوں نے شق ڈلوا دی کہ یہودیوں کی یہاں بسنے کی اجازت نہ ہو گی۔ ان کو حکم تھا کہ زیارتیں کریں اور جائیں۔یہ معاہد ہ ترکوں کی خلافت تک جاری رہا۔

2000 Years History of Jews

حضرت عثمان کا دور خلافت اور یہود

یہ وہ وقت ہے جب یہودیوں نے امت مسلمہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ ایک یہودی عبداللہ ابن سباء اسلام کا لبادہ اوڑھ کر آیا اور اس نے معاشرے کا جائزہ لیا۔ اس نے بنو ہاشم اور بنو امیہ میں جو پرانی کشمکش تھی اس کو بڑھکانے کے لئے کہا کہ عثمان تو بنو امیہ میں سے ہے جبکہ خلافت پر حق تو بنو ہاشم کا ہے کیونکہ محمد کے عزیز و اقارب تو وہ ہیں۔ اس حوالے سے جھوٹی افواہیں پھیلانی شروع کر دیں کہ ظلم و جبر ہو رہا ہے اور لوٹ مار ہو رہی ہے۔مزید اس نے یہ فتنہ کھڑا کر دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا فتنہ اٹھا اور حضرت عثمان کے خلاف فتنہ الکبریٰ اٹھایا اور ان کو شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد پانچ برس تک مسلمان آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہے۔ امت کو ایسا زخم دیا جو آج تک رس رہاہے۔ یہ شیعان عثمان اور شیعان علی تھے جو بعد میں سنی اور شیعہ ہو گئے۔ عبداللہ ابن سباء اور اس کے ساتھی جو شیطان کے پیروکار تھے انہوں نہ یہ فتنہ اٹھایا۔ یہ زخم بھی یہود کا لگایا گیا تھا۔

طارق ابن زیاد کا دوراوریہود کا کردار و پروٹسٹنٹ مذہب کی بنیاد

2000 Years History of Jews

خلافت راشدہ کے بعد بنو امیہ کا دور بھی کافی گزر چکا تھا۔ طارق ابن زیاد نے 712عیسوی میں سپین پر حملہ کر دیا۔ سپین اس وقت عیسائیت کا گڑھ تھا۔ اور یہودیوں کی پٹائی عیسائیوں کے ہاتھوں ہو رہی تھی۔ لہذا یہودیوں نے چال چلی اور طارق ابن زیاد کی مدد اس طرح سے کی کہ ان کو راستے وغیرہ بتاتے اور ترکیبیں دیتے رہے اور ہسپانیہ فتح ہو گیا۔ طارق ابن زیاد نے ان کو اپنا خیر خواہ سمجھ لیا۔ یہودی چونکہ محسن سمجھے جاتے تھے اس لئے ان کو مسلمانوں نے بہت سپورٹ کیا۔ ان کے بڑے بڑے علماء اس دور میں پیدا ہوئے۔ بلگوریان جو کہ ایک اسرائیل کا وزیر اعظم رہا ہے اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ان کدور انتشار  جو70 عیسوی سے 1917 تک جاری رہا اس میں ان کا سنہری دور وہ تھا جب سپین پر مسلمانوں کی حکومت تھی اور ہسپانیہ میں بیٹھ کر انہوں نے عیش کی۔ لیکن جو چال انہوں نے وہاں بیٹھ کر چلی ان میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے عیسائیت کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا اور پروٹسٹنٹ مذہب پیدا کر کے عیسائیوں کو تقسیم کر دیا۔ اس طرح انہوں نے رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ میں عیسائیت کو تقسیم کر دیا۔ہسپانیہ یونیورسٹیوں میں جرمنی، فرانس اور اٹلی وغیرہ سے لوگ جو تعلیم حاصل کرنے آتے تھے وہ اسلام کے نور سے بھی مستفید ہوتے تھے۔ یہودیوں نے اپنی سازشیں شروع رکھیں اور اس وقت عیسائیت میں اس وقت کے بادشاہ کی نسبت پوپ کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی اور اصل قوت اسی کے ہاتھ میں تھی جبکہ بادشاہ کی حیثیت کٹھ پتلیوں سی تھی۔پوپ جس کو چاہے حلال یا حرام قرار دیتا تھا۔ یہودیوں نے کہا کہ پوپ کی نسبت کتاب کی اہمیت ہو نی چاہئے۔ انہوں نے پوپ کا اقتدار ختم کر ا دیا۔اور پھر توجہ مرکوز کر دی بائبل کی طرف۔ بابئل میں بڑا حصہ تو  Old Testament کا ہے۔ جس کانتیجہ یہ ہوا کے یہود کی عظمت پروٹسٹنٹس کے نزدیک مسلم ہو گئی۔ اور انہوں نے پروٹسنٹس مذہب کے نتیجے میں وہ عیسائیوں سے اپنی دشمنی جو حضرت عیسیٰ سولی چڑھانے کی بناء پر تھی اس کا ازالہ کر دیا۔

حوالہ دیکھئے:

مصنف Bertrand Russell

 صفحہ 108 کتاب In  Praise  of  Idleness

The Christians, retaining the Judaic belief in a special revelation, added to it the Roman desire for worldwide dominion and the Greek taste for metaphysical subtleties. The combination produced the most fiercely persecuting religion that the world has yet known.

جو تین چیزیں آکر عیسائیت میں مل گئیں ان میں سے ایک تو Old Testament جو کہ محرف تھی کیونکہ اصل تورات تو 583 قبل مسیح میں پہلی مرتبہ ہیکل سلیمانی کے خاتمے کے ساتھ ختم ہو گئی تھی۔ پھر اس کے تقریباً ڈیڑھ سوبرس بعد یاداشتوں سے دوبارہ مرتب کر کے لکھی گئی ہے جس میں انہوں نے تبدیلیاں کر دی تھیں اپنی ترجیحات کے مطابق۔

اس کتاب میں مظالم کی جو تعلیم دی گئی ہے

اہل کتاب نے اپنے مظالم و قتل عام کے جوازکے لئے جو تعلیم دی ہے اور پیغمبروں پروحشت ناکی اور بدترین حرام کاری کے الزامات لگائے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
پہلا حوالہ: بنتی، باب 31 آیات 17-18 اس لئے ان بچوں میں جتنے لڑکے ہیں سب کو مار ڈالو اور جتنی عورتیں مرد کا منہ دیکھ چکیں ہیں ان کو بھی مار ڈالو۔ لیکن وہ لڑکیاں جو مرد سے واقف نہیں اور اچھوتی ہیں ان کو اپنے لئے زندہ رکھو۔
کیا یہ اللہ کی کتاب کا جملہ ہو سکتا ہے؟
دوسرا حوالہ: استثنی، باب 20 آیت 16-18 ترجمہ: ان قوموں کے شہروں میں جن میں تیرا خدا نیراش کے طور پر دیتا ہے کسی ذی نفس کو زندہ نہ بچا رکھنا جیسا تیرے خدا نے تجھے حکم دیا بالکل نیست کر دینا۔
تیسرا حوالہ:سیموئیل، باب27 آیت نمبر ۹: اور داود نے اس سرزمین کو تباہ کر ڈالا اور عورت مرد کسی کو زندہ نہ چھوڑا
چوتھا حوالہ: استثنیٰ، باب ۳، آیت ۶: یہ بات ہے جو برٹرینڈ رسل کہہ رہا ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے اور جو بد ترین خونخوار مذہب ہو سکتا ہے وہ شکل عیسائیت نے اختیار کی ہے۔

  2000 Years History of Jews

اس کا مظہر ہے صلیبی جنگیں۔ پہلا ہزار سال ختم ہوا تو گیارہویں صدی میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ صرف یروشلم کے اندراتنا خون  بہایا کہ خود انکے اپنے تاریخ دان لکھتے ہیں کہ صلیبیوں کے گھوڑوں کے گھٹنوں تک خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔ جہاں سے وہ گزرتے گئے آبادیاں ختم کرتے گئے۔ اگرچہ اس کروسیڈ میں یہودی بھی بہت مارے گئے۔فرانس اور جرمن سے جب صلیبی تین ہزار میل کا سفر کر کے آ رہے تھے تو پوپ اربن ثانی نے ان کو اکسایا کہ شرم سے ڈوب مرو کہ مسیح جہاں پیدا ہواور جہاں ان کو سولی دی گئی وہ مقدس علاقے مسلمان جو کہ مرتد اور کافر ہیں ان کے ہاتھ میں ہیں۔اس طرح جو تباہی مچائی گئی تاریخ انسانی میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

English Version

src: Lecture Dr. Israr Ahmad. 2000 Years History of Jews