Journey of Dr. Laurence Brown to Islam

Journey of Dr. Laurence Brown to Islam

Read in English

ڈاکٹر لارنس براون 1959 میں سان فرانسسکوامریکہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان 1677 عیسوی سے امریکہ میں تھا جو عیسائی تھا مگر ڈاکٹر لارنس براون خدا پر یقین نہیں رکھتا تھا اور ملحد تھا۔ انہوں Cornell University سے آرٹس اور سائنس میں گریجویشن تک تعلیم حاصل کی اور پھر براون یونیورسٹی میں میڈیکل کالج سے میڈیسن ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور پھر The George Washington University Hospital سے منسلک ہو گئے۔ انہوں انے امریکن ائر فورس میں بھی ملازمت کی . Journey of Dr. Laurence Brown to Islam

ان کا خدا پر یقین بالکل نہ تھا اور ملحد تھے جو صرف سائنس اور تحقیق کو ہی سب سے بڑا مذہب کہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہب قصے کہانیوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پھر اس کی زندگی میں دو واقعات رونما ہوئے جس سے اس کی زندگی بدل گئی۔

پہلا واقعہ کچھ یوں ہے کہ 1990 کے شروع میں کرسٹینا جو اس کی بیٹی تھی اس کی پیدائش کے وقت پیش آیا۔ جب وہ پیدا ہوئی تو ڈاکٹر لارنس نے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو وہ بچی اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ ڈاکٹروں کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا  کیونکہ بچے عموماً دس یا گیارہ ماہ کی عمر میں چلنے کے قابل ہوتے ہیں اور یہ ان کے نزیک عجیب واقعہ تھا .

اس کے بعد ان کے ہاں تقریبا دس ماہ بعد  10 اکتوبر 1990 ایک دوسری بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام Hanna تھا جو پیدائشی طور پر دل کی بیماری میں مبتلا تھی۔ یہ سر سے پاوں تک نیلی تھی جو یہ ظاہر کرتا تھا کہ بچی کے خون میں آکسیجن موجود نہ ہے۔ ٹیسٹ کروانے پر پتہ چلا کہ بچی کے دل کی artries  بند ہیں جس کی وجہ سے اس کو فوری طور پر آپریشن تھیٹر میں منتقل کر دیا گیا تاک کہ اس کے دل کی سرجری کر کے مصنوعی طور پر نالی ڈال دی جائے۔ ڈاکٹر لارنس چونکہ خود بھی اس فیلڈ سے منسلک تھے اس لئے ان کو نتائج کا علم تھا کہ یہ آپریشن کامیاب نہیں ہو گا اگر ہو بھی گیا تو بچی پھر بھی زیادہ دیر تک زندہ نہ رہے سکے گی۔ تاہم پھر بھی اس نے دل کے ماہر ڈاکٹر کو بلوایا اور سرجری کرنے کا کہا۔

Journey of Dr. Laurence Brown to Islam

 Dr. Laurence Brown ملحد تھا اور خدا پر یقین نہ رکتھا تھا۔ مگر ایک بیٹی کا باپ تھا اس سے اپنی بیٹی کی تکلیف دیکھی نہ جا رہی تھی اسے لئے وہ آپریشن تھیٹر سے باہر چلا گیا اور بے چینی کے عالم میں ادھر ادھر ٹہلنے لگ گیا۔ ہستپال کے اندر ایک prayer روم تھا جو کسی خاص مذہب کے پیروکاروں کے لئے مخصوص نہ تھا۔ ہر مذہب کے پیروکار اپنے اپنے مذہب کی تعلیمات کے مطابق وہاں پر عبادت یا دعا کرتے تھے۔ جب اس کی نظر اس کمرے پر پڑی تو وہ بے اختیار کمرے میں داخل ہو گیا۔

یہ اس کی زندگی میں پہلی بار ہو ا تھا کہ وہ عبادت گاہ میں داخل ہوا کیوں کہ وہ ملحد تھا۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اورسرگوشی کی حالت میں دعا کرنے لگا کے اے خدا اگر تو ہے توخود کو ثابت کر اورمیری بیٹی کو صحت عطا کر اگر تو نے ایسا کر دیا تو میں وہ مذہب اختیار کروں گا جو تیرے نزدیک سچا ہے۔ وہ دس سے پندرہ میں اس کیفیت میں رہا اور جب دوبارہ آپریشن تھیٹر میں گیا تو دیکھا کہ سرجن اور اس کی ٹیم حیرت زدہ کھڑے ہیں اور جب اس نے خود جا کر دیکھا تو بیٹی کو دیکھ کر وہ بھی حیران ہو گیا کہ اس کی بیٹی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے بالکل تندرست ہو چکی ہے۔ تمام ڈاکٹر اس معجزے کی وجہ جاننا چاہتے تھے مگر یہ وجہ صرف ڈاکٹر لارنس براون ہی جانتے تھے۔

اس کے بعد جب بچی کے دوبارہ ٹیسٹ کئے گئے تو وہ بالکل نارمل تھے۔ اس کے بعد ڈاکٹر لارنس براون اپنی بچی کو لے کر گھر چلا گیا اور اس کو اللہ سے کیا ہوا اپنا وعدہ بھی یاد تھا۔ اس نے سچے مذہب کو پانے کے لئے مختلف مذاہب کا مطالعہ شروع کیا اور انکی عبادت گاہوں میں بھی جانا شروع کر دیا۔ اس نے اس مقصد کے لئے دور دراز کے ملکوں کے سفر بھی کئے۔ وہ یہودیوں کی عبادت گاہ میں بھی گیا مگر دل کو تسلی نہ ہوئی۔ وہ عیسایؤں کے چرچ میں بھی گیا مگر بے سود۔ پھر وہ ہندووں کے مندر، گردوارے بھی گیا اس نے بدھ مت کا بھی مطالعہ کیا مگر اس کو تسلی نہ ہوئی۔

ایک  تو وہ شروع سے ملحد تھا مگر سب سے زیادہ نفرت اس کو اسلام سے تھی۔ آخر کار ایک دن وہ کہیں جا رہا تھا کہ اس کی نظر ایک چھوٹی سی مسجد پر پڑی جہاں مسلمان اپنے رب کی عبادت میں مصروف تھے۔ وہ وہاں رک گیا اور مسجد میں داخل ہونے لگا تو ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس نے اپنے سینے میں سرایت کرتا ہو محسوس کیا۔ با لآخر وہ دروازے سے ہی واپس آگیا اس جھونکے نے اس کے دل کے اندر نور کی شمع کو منور کرنا شروع کر دیا اور اس نے قرآن پاک اور سیرت النبی ﷺ کی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ وہ جوں جو ں مطالعہ کرتا جاتا اس کا سینہ روشن ہوتا گیا اور دل و دماغ کی کیفیت بدلنا شروع ہو گئی۔ اس طرح کم و بیش چار سال کی تگ و دو کے بعد1994 میں اس کو اللہ تعالیٰ نے راہ ہدایت عطا کر دی اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا اور دین کی خدمت میں لگ گیا۔

 
 Dr. Laurence Brownکا کہنا ہے کہ خدا دو طریقوں سے انسان کو اپنی طرف مائل کرتا ہے پہلا طریقہ وہ جو Kristina کے ساتھ پیش آیا یعنی کہ کچھ عجائب وہ معجزے دکھا کر اور اس وقت بھی کوئی قدرت کی طرف مائل نہ ہو تو پھر دوسرا طریقہ Hanna جیسے واقعات یعنی آزمائش یا پریشانی میں مبتلا کر کے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

 

ڈاکٹر لارنس براون کا قبول اسلام اور قربانیاں:

ڈاکٹر لارنس براون کے قبول اسلام کے بعد ان کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا ان میں سے چند یہ ہیں کہ:

 قبول اسلام کے بعد ان کی بیوی اپنے بچوں کو ساتھ لے کر ان کو چھوڑ کر چلی گئی۔

 امریکی ائیر فورس کی نوکری کو بھی خیر باد کہنا پڑا کیوں کہ اب وہ مسلمان ہو چکے تھے

 اللہ کے دین کی خاطر وہ گھر سے بھی بے گھر ہو چکے تھے۔

 ان کے والدین نے ان سے تعلقات ختم کر لئے تھے

 ان کے دوست احباب جو شراب وغیرہ کے عادی تھے ان کے ساتھ بھی انہوں نے تعلقات ختم کرلئے تھے۔

 وہ ایک طرح سے تنہا ہو چکے تھے مگر اللہ کو اپنا ساتھی بنا چکے تھے اس لئے سب کچھ برداشت کیا۔

 

ڈاکٹر لارنس براون کا قبول اسلام اوراللہ کی طرف سے عنایات:

 

ڈاکٹر لارنس براون کو اللہ نے امریکہ میں گھر کے بدلے میں مدینہ میں گھر عطا کر دیا

ان کی بیوی ان کو چھوڑ کر جا چکی تھی تو اللہ نے پاکباز اور مسلمان خاتون آپ کے نکاح میں دے دی

ان کا بھائی جو ہر وقت آپ کے ساتھ دست و گریبان رہتا تھا مسلمان ہو کر بھائی ہونے کا حق ادا کر دیا

پھر بعد میں ان کے والدین نے بھی ان سے ملنا جلنا شروع کر دیا

ان کی پہلی بیوی اور بچے بھی ملاقات کرتے ہیں اور چھٹیاں بھی اپنے بچوں کے ساتھ گزار لیتے ہیں۔

سب سے بڑی سعادت اللہ نے ان کو بخشی کہ اپنے پسندیدہ شہر میں گھر عطا کر دیا۔

ڈاکٹر لارنس براون کی تصانیف:

ڈاکٹر لارنس براون نے اسلام قبول کرنے کے بعد درج ذیل کتب تصنیف کیں:

MisGod’ed Dr Laurence B. Brown

God’ed? Dr Laurence B. Brown

The First and Final Commandment

Bearing True Witness

The Eight Scroll

The Returned

The Big Questions

Journey of Dr. Laurence Brown to Islam